9 مارچ 2012 - 20:30

ہندوستان کے معروف صحافی محمد احمد کاظمی کو ہندوستانی پولیس صیہونی ریاست کے دباؤ میں جسمانی ایذائيں پہنچارہی ہے۔

ابنا: ہندوستانی پولیس نے سینئر صحافی محمد احمد کاظمی کو نئي دھلی میں صیہونی سفارتخانے کےسامنے ہونےوالی بم دھماکے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ ان کے اھل خانہ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ احمد کاظمی بے گناہ ہیں اور انہیں صہیونیوں کےدباؤمیں جسمانی اور ذہنی ایذائيں پہنچائي جارہی ہیں۔

ادھر دھلی جرنسلٹ یونین نے جمعے کو محمد احمد کاظمی کے دو بیٹوں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں ان کے اھل خانہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتےہوئے احمد کاظمی کی فوری رہائي کا مطالبہ کیا۔ ان کے بیٹے نے کہا کہ میرا باپ بے گناہ ہے اور انہوں نے کوئي غیرقانونی کام انجام نہیں دیا ہے اور نہ کوئي ایسا ثبوت پایا جاتا ہے جس سے دھلی دھماکے میں ان کے ملوث ہونے کاپتہ چلتا ہو۔ ان کے بیٹے نے کہا کہ میرے والد قومی ہیرو ہیں جنہوں نے دور درشن کے لئے عراق جنگ کی کوریج کی تھی۔ احمد کاظمی کے بیٹے نے کہا کہ اپنے والد سے ملاقات میں مجھے لگا کہ دس پولیس افسر ان سے تفتیش کررہے ہیں۔ ادھر اردو اخبار صحافت نے احمد کاظمی کی گرفتاری کو غیر قانونی قراردیتے ہوے لکھا ہے کہ نئي دھلی دوسروں پر الزام لگانے کے لئے صیہونی ریاست کے دباؤ میں آچکی ہے۔

ادھر جامع مسجد نئي دھلی کے امام مولانا سید احمد بخاری اور مجلس علماء ہند کے سربراہ مولانا سید محمد محسن تقوی نے بھی نئي دھلی میں صہیونی سفارتخانے کے سامنے ہونےوالے بم دھماکے کو صہیونی امریکی سازش قراردیا اور کہا کہ اس کا مقصد ایران کےساتھ ہندوستان کےتعلقات کو نقصان پہنچانا ہے۔

 مجلس مشاورت ہند کے سربراہ ظفر الاسلام خان نے احمد کاظمی کی گرفتاری کی سخت مذمت کرتےہوئے کہا کہ جب تک پولیس اور حکومت کے پاس کسی کے خلاف ٹھوس ثبوت نہ ہوں تو کسی کو شک و شبہے کی اساس پر گرفتار کرنا جرم ہے۔ قابل ذکر ہے ہندوستان کے مسلم مذہبی اورصحافتی حلقوں نے محمد احمد کاظمی کی گرفتار کی مذمت کی ہے۔ محمد احمد کاظمی نے ہندوستان کے ذرائع ابلاغ میں امریکہ اسکے مغربی اتحادیوں اور صیہونی ریاست کی سازشوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ نئي دھلی میں صہیونی سفارتخانےکے باہر حملے کےبعد صیہونی ریاست نے ایران پر اس حملے کا الزام لگایا ہے اور ہندوستانی حکومت پردباؤ ڈال رہی ہے کہ ایران کو اس حملے کا ذمہ دار قرار دے۔

 ......

/169